آنے والے جانے والے ہر زمانے کے لیے

حفیظ جالندھری

آنے والے جانے والے ہر زمانے کے لیے

حفیظ جالندھری

MORE BYحفیظ جالندھری

    آنے والے جانے والے ہر زمانے کے لیے

    آدمی مزدور ہے راہیں بنانے کے لیے

    زندگی فردوس گم گشتہ کو پا سکتی نہیں

    موت ہی آتی ہے یہ منزل دکھانے کے لیے

    میری پیشانی پہ اک سجدہ تو ہے لکھا ہوا

    یہ نہیں معلوم ہے کس آستانے کے لیے

    ان کا وعدہ اور مجھے اس پر یقیں اے ہم نشیں

    اک بہانہ ہے تڑپنے تلملانے کے لیے

    جب سے پہرہ ضبط کا ہے آنسوؤں کی فصل پر

    ہو گئیں محتاج آنکھیں دانے دانے کے لیے

    آخری امید وقت نزع ان کی دید تھی

    موت کو بھی مل گیا فقرہ نہ آنے کے لیے

    اللہ اللہ دوست کو میری تباہی پر یہ ناز

    سوئے دشمن دیکھتا ہے داد پانے کے لیے

    نعمت غم میرا حصہ مجھ کو دے دے اے خدا

    جمع رکھ میری خوشی سارے زمانے کے لیے

    نسخۂ ہستی میں عبرت کے سوا کیا تھا حفیظؔ

    سرخیاں کچھ مل گئیں اپنے فسانے کے لیے

    مأخذ :
    • کتاب : Kulliyat-e-Hafeez Jalandhari (Pg. 130)

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY