آنکھ سے ٹپکا جو آنسو وہ ستارا ہو گیا

سیماب اکبرآبادی

آنکھ سے ٹپکا جو آنسو وہ ستارا ہو گیا

سیماب اکبرآبادی

MORE BYسیماب اکبرآبادی

    آنکھ سے ٹپکا جو آنسو وہ ستارا ہو گیا

    میرا دامن آج دامان ثریا ہو گیا

    اس کے جی میں کیا یہ آئی یہ اسے کیا ہو گیا

    خود چھپا عالم سے اور خود عالم آرا ہو گیا

    بندۂ معنیٰ کہاں صورت کا بندا ہو گیا

    سوچتا ہوں مجھ کو کیا ہونا تھا میں کیا ہو گیا

    پھر تصور نے بڑھا دی نالۂ موزوں کی لے

    پھر سواد فکر سے اک شعر پیدا ہو گیا

    اب کہاں مایوسیوں میں جھلکیاں امید کی

    وہ بھی کیا دن تھے کہ تیرا غم گوارا ہو گیا

    جان دے دی میں نے تنگ آ کر وفور درد سے

    آج منشائے جفائے دوست پورا ہو گیا

    برہمن کہتا تھا برہم شیخ بول اٹھا احد

    حرف کے اک پھیر سے دونوں میں جھگڑا ہو گیا

    وحدت و کثرت کے جلوے خلقت انساں میں دیکھ

    ایک ذرہ اس قدر پھیلا کہ دنیا ہو گیا

    بربریت کی جہاں میں گرم بازاری ہوئی

    آدمیت کی رگوں میں خون ٹھنڈا ہو گیا

    آشیاں بننے نہ پایا تھا کہ بجلی گر پڑی

    باغ ابھی بسنے نہ پایا تھا کہ صحرا ہو گیا

    آ گیا سیلاب بالیں تک وفور گریہ سے

    رحم کر یا رب کہ پانی سر سے اونچا ہو گیا

    اتفاق وقت تھا اپنا فروغ آشیاں

    جب کوئی جگنو چمک اٹھا اجالا ہو گیا

    دل کھنچا جتنا قفس میں آشیانے کی طرف

    دور اتنا ہی قفس سے آشیانا ہو گیا

    ہم مسافر تھے ہمارا مستقر کوئی نہ تھا

    رات جب آئی جہاں آئی بسیرا ہو گیا

    ہو گئے رخصت رئیسؔ و عالؔی و واصفؔ نثارؔ

    رفتہ رفتہ آگرہ سیمابؔ سونا ہو گیا

    RECITATIONS

    نعمان شوق

    نعمان شوق

    نعمان شوق

    آنکھ سے ٹپکا جو آنسو وہ ستارا ہو گیا نعمان شوق

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY