آنکھوں کے خواب دل کی جوانی بھی لے گیا

فضا ابن فیضی

آنکھوں کے خواب دل کی جوانی بھی لے گیا

فضا ابن فیضی

MORE BY فضا ابن فیضی

    آنکھوں کے خواب دل کی جوانی بھی لے گیا

    وہ اپنے ساتھ میری کہانی بھی لے گیا

    خم چم تمام اپنا بس اک اس کے دم سے تھا

    وہ کیا گیا کہ آگ بھی پانی بھی لے گیا

    ٹوٹا تعلقات کا آئینہ اس طرح

    عکس نشاط لمحۂ فانی بھی لے گیا

    کوچے میں ہجرتوں کے ہوں سب سے الگ تھلگ

    بچھڑا وہ یوں کہ ربط مکانی بھی لے گیا

    تھے سب اسی کے لمس سے جل تھل بنے ہوئے

    دریا مڑا تو اپنی روانی بھی لے گیا

    اب کیا کھلے گی منجمد الفاظ کی گرہ

    وہ ہمت کشود معانی بھی لے گیا

    سر جوشیٔ قلم کو فضاؔ چپ سی لگ گئی

    وہ جاتے جاتے شعلہ بیانی بھی لے گیا

    RECITATIONS

    نعمان شوق

    نعمان شوق

    نعمان شوق

    آنکھوں کے خواب دل کی جوانی بھی لے گیا نعمان شوق

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY