آنکھوں میں اشک بھر کے مجھ سے نظر ملا کے

علی جواد زیدی

آنکھوں میں اشک بھر کے مجھ سے نظر ملا کے

علی جواد زیدی

MORE BYعلی جواد زیدی

    آنکھوں میں اشک بھر کے مجھ سے نظر ملا کے

    نیچی نگاہ اٹھی فتنے نئے جگا کے

    میں راگ چھیڑتا ہوں ایمائے حسن پا کے

    دیکھو تو میری جانب اک بار مسکرا کے

    دنیائے مصلحت کے یہ بند کیا تھمیں گے

    بڑھ جائے گا زمانہ طوفاں نئے اٹھا کے

    جب چھیڑتی ہیں ان کو گمنام آرزوئیں

    وہ مجھ کو دیکھتے ہیں میری نظر بچا کے

    دیدار کی تمنا کل رات رکھ رہی تھی

    خوابوں کی رہگزر میں شمعیں جلا جلا کے

    دوری نے لاکھ جلوے تخلیق کر لیے تھے

    پھر دور ہو گئے ہم تیرے قریب آ کے

    شام فراق ایسا محسوس ہو رہا ہے

    ہر ایک شے گنوا دی ہر ایک شے کو پا کے

    آئی ہے یاد جن کی طوفان درد بن کے

    وہ زخم میں نے اکثر کھائے ہیں مسکرا کے

    میری نگاہ غم میں شکوے ہی سب نہیں ہیں

    اک بار ادھر تو دیکھو نیچی نظر اٹھا کے

    یہ دشمنی ہے ساقی یا دوستی ہے ساقی

    اوروں کو جام دینا مجھ کو دکھا دکھا کے

    دل کے قریب شاید طوفان اٹھ رہے ہوں

    دیکھو تو شعر زیدیؔ اک روز گنگنا کے

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY