بنائے رکھتا ہے آنکھوں میں روشنی آنسو

دھیریندر سنگھ فیاض

بنائے رکھتا ہے آنکھوں میں روشنی آنسو

دھیریندر سنگھ فیاض

MORE BYدھیریندر سنگھ فیاض

    بنائے رکھتا ہے آنکھوں میں روشنی آنسو

    سو میرا خواب بھی آنسو ہے نیند بھی آنسو

    اگیں گے نیند کے پودے پہ کچھ نئے نئے خواب

    کرے گا آنکھ میں جب کیمیا گری آنسو

    بنا ہوا ہے ستارا ہماری آنکھوں کا

    ٹپکتا ہی نہیں آنکھوں سے آخری آنسو

    کبھی جو رونے کا جی ہو تو کھل کے رو لینا

    بنا کے رکھتا ہے لوگوں کو آدمی آنسو

    مرا خیال تصور یہی مجھے مضمون

    مری زبان بھی آنسو ہے شاعری آنسو

    نظر جھکا کے وہ کہتی تھی مجھ کو پتھر دل

    ملاتی آنکھ تو آنکھوں میں دیکھتی آنسو

    ہمارے رونے کو تم رنج کیوں سمجھتے ہو

    ہمارا رونا خوشی ہے شگفتگی آنسو

    موضوعات :

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY