میں پی رہی ہوں کہ زہراب ہیں مرے آنسو

لتا حیا

میں پی رہی ہوں کہ زہراب ہیں مرے آنسو

لتا حیا

MORE BYلتا حیا

    میں پی رہی ہوں کہ زہراب ہیں مرے آنسو

    تری نظر میں فقط آب ہیں مرے آنسو

    تو آفتاب ہے میرا میں تجھ سے ہوں روشن

    ترے حضور تو مہتاب ہیں مرے آنسو

    وہ غالباً انہیں ہاتھوں میں تھام بھی لیتا

    اسے خبر نہ تھی سیلاب ہیں مرے آنسو

    خیال رکھتے ہیں تنہائیوں کا محفل کا

    یہ کتنے واقف آداب ہیں مرے آنسو

    چھپا کے رکھتی ہوں ہر غم کو لاکھ پردوں میں

    فصیل ضبط سے نایاب ہیں مرے آنسو

    صحیفہ جان کے آنکھوں کو پڑھ رہا ہے کوئی

    یہ رسم اجرا کو بیتاب ہیں مرے آنسو

    میں شاعری کے ہوں فن عروض سے واقف

    زبر ہیں زیر ہیں اعراب ہیں مرے آنسو

    جسے پڑھا نہیں تم نے کبھی محبت سے

    کتاب زیست کا وہ باب ہیں مرے آنسو

    حیاؔ کے راز کو آنکھوں میں ڈھونڈنے والو

    شناورو سنو گرداب ہیں مرے آنسو

    موضوعات :

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY