آپ ہی سے نہ جب رہا مطلب

حفیظ جونپوری

آپ ہی سے نہ جب رہا مطلب

حفیظ جونپوری

MORE BY حفیظ جونپوری

    آپ ہی سے نہ جب رہا مطلب

    پھر رقیبوں سے مجھ کو کیا مطلب

    آرزو میرے دل کی بر آئے

    سب کا پورا کرے خدا مطلب

    کر نہ مجھ کو سبک رقیبوں میں

    یوں ہنسی میں نہ تو اڑا مطلب

    رک گئی بات تا زباں آ کر

    دل کا دل ہی میں رہ گیا مطلب

    ضد ہی ضد شیخ و برہمن کی تھی

    ورنہ دونوں کا ایک تھا مطلب

    میری اک بات میں ہیں سو پہلو

    اور سب کا جدا جدا مطلب

    غیر کی اور اس قدر تعریف

    ہم سمجھتے ہیں آپ کا مطلب

    اگلی باتوں کا ذکر جانے دو

    آج اس تذکرے سے کیا مطلب

    خوش ہو نافہم بھی سمجھ کے حفیظؔ

    صاف ایسا ہو شعر کا مطلب

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY