عاشقی میں میرؔ جیسے خواب مت دیکھا کرو

احمد فراز

عاشقی میں میرؔ جیسے خواب مت دیکھا کرو

احمد فراز

MORE BY احمد فراز

    عاشقی میں میرؔ جیسے خواب مت دیکھا کرو

    باؤلے ہو جاؤ گے مہتاب مت دیکھا کرو

    جستہ جستہ پڑھ لیا کرنا مضامین وفا

    پر کتاب عشق کا ہر باب مت دیکھا کرو

    اس تماشے میں الٹ جاتی ہیں اکثر کشتیاں

    ڈوبنے والوں کو زیر آب مت دیکھا کرو

    مے کدے میں کیا تکلف مے کشی میں کیا حجاب

    بزم ساقی میں ادب آداب مت دیکھا کرو

    ہم سے درویشوں کے گھر آؤ تو یاروں کی طرح

    ہر جگہ خس خانہ و برفاب مت دیکھا کرو

    مانگے تانگے کی قبائیں دیر تک رہتی نہیں

    یار لوگوں کے لقب القاب مت دیکھا کرو

    تشنگی میں لب بھگو لینا بھی کافی ہے فرازؔ

    جام میں صہبا ہے یا زہراب مت دیکھا کرو

    RECITATIONS

    نعمان شوق

    نعمان شوق

    نعمان شوق

    عاشقی میں میرؔ جیسے خواب مت دیکھا کرو نعمان شوق

    Tagged Under

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY

    Added to your favorites

    Removed from your favorites