آشنا ہوتے ہی اس عشق نے مارا مجھ کو

ارشد علی خان قلق

آشنا ہوتے ہی اس عشق نے مارا مجھ کو

ارشد علی خان قلق

MORE BY ارشد علی خان قلق

    آشنا ہوتے ہی اس عشق نے مارا مجھ کو

    نہ ملا بحر محبت کا کنارا مجھ کو

    کیوں مرے قتل کو تلوار برہنہ کی ہے

    تیغ ابرو کا تو کافی ہے اشارا مجھ کو

    خود ترے دام میں آیا کوئی افسوں نہ چلا

    اے پری تو نے تو شیشے میں اتارا مجھ کو

    میرے عیسیٰ کا ذرا دیکھنا اعجاز خرام

    ایک ٹھوکر سے ملی عمر دوبارا مجھ کو

    مانع دولت دیدار نہ ہو اے گریہ

    رخ محبوب کا کرنے دے نظارا مجھ کو

    دل میں اک گوہر خوبی کی محبت کا ہے جوش

    آج کل بھاتا ہے دریا کا کنارا مجھ کو

    دم دلاسے ہی میں ٹالا کیے ہر روز آخر

    سوکھے گھاٹ اے گل تر خوب اتارا مجھ کو

    نقد جاں نذر کروں تیرے پھر اے قاتل خلق

    زندہ کر دے اگر اللہ دوبارا مجھ کو

    پہلو یار کو غیروں سے جو خالی پایا

    دل بیتاب نے کیا کیا نہ ابھارا مجھ کو

    میں یہاں منتظر وعدہ رہا لیکن وہ

    رہ گئے اور کہیں دے کے سہارا مجھ کو

    آخر انسان ہوں پتھر کا تو رکھتا نہیں دل

    اے بتو اتنا ستاؤ نہ خدا را مجھ کو

    اپنے بیگانے سے اب مجھ کو شکایت نہ رہی

    دشمنی کر کے مرے دوست نے مارا مجھ کو

    پھندے میں پھنس کے میں اس کے نہ ہوا پھر جاں بر

    تار گیسو نے ترے مار اتارا مجھ کو

    ان کو سوجھا نہ ذرا پست و بلند الفت

    غیر سے چڑھ گئے نظروں سے اتارا مجھ کو

    صدمۂ صحبت اغیار نہ اٹھے گا کبھی

    اور جو ظلم کرو سب ہیں گوارا مجھ کو

    شاد اس سے ہوں کہ اس قاتل عالم نے خود آج

    کہہ کے او عاشق ناشاد پکارا مجھ کو

    جاں دی عشق میں اس حور کے میں نے جو قلقؔ

    قبر میں آ کے فرشتوں نے اتارا مجھ کو

    RECITATIONS

    نعمان شوق

    نعمان شوق

    نعمان شوق

    آشنا ہوتے ہی اس عشق نے مارا مجھ کو نعمان شوق

    مآخذ:

    Mazhar-e-Ishq
    • Mazhar-e-Ishq

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY