آسماں کا رنگ میری ذات میں گھل جائے گا
آسماں کا رنگ میری ذات میں گھل جائے گا
دیکھنا اک دن غبار جسم بھی دھل جائے گا
ایک اک کر کے پرندے اڑ رہے ہیں شاخ سے
ایسا لگتا ہے کہ جیسے موسم گل جائے گا
خوف کی دیوی کو آخر مل گیا اس کا پتہ
اس کے شعروں سے بھی اب رنگ تغزل جائے گا
درد کے جھونکوں سے بچنا اب کہاں ممکن شمیمؔ
بند ہوگا ایک در تو دوسرا کھل جائے گا
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.