آسماں کا ستارہ نہ مہتاب ہے

عتیق اللہ

آسماں کا ستارہ نہ مہتاب ہے

عتیق اللہ

MORE BY عتیق اللہ

    آسماں کا ستارہ نہ مہتاب ہے

    قلب گہہ میں جو اک جنس نایاب ہے

    آئینہ آئینہ تیرتا کوئی عکس

    اور ہر خواب میں دوسرا خواب ہے

    اور ہے شمع کے بطن میں روشنی

    تیرے آئینے میں اور ہی آب ہے

    یہ چراغ اور ہے وہ ستارہ ہے اور

    اور آگے جو اک ہجر کا باب ہے

    اور پھیلی ہوئی ہے جو اک دھند سی

    اور عقب میں جو اک زینۂ خواب ہے

    بس وہ لمحہ جو تجھ سے عبارت ہوا

    باقی جو چیز ہے وہ فنا یاب ہے

    خواب نے تو رقم کر دیا تھا تجھے

    حاصل شب یہی چشم پر آب ہے

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY