اب کی ہولی میں رہا بے کار رنگ

امام بخش ناسخ

اب کی ہولی میں رہا بے کار رنگ

امام بخش ناسخ

MORE BYامام بخش ناسخ

    اب کی ہولی میں رہا بے کار رنگ

    اور ہی لایا فراق یار رنگ

    سرخ رو کر دے شراب آئی بہار

    ہے خزاں سے زرد اے خمار رنگ

    ہونٹ اودے سبز خط آنکھیں سیاہ

    چہرے کا سرخ و سفید اے یار رنگ

    ہم کو سارے گلشن آفاق میں

    بس پسند آئے یہی دو چار رنگ

    غیر سے کھیلی ہے ہولی یار نے

    ڈالے مجھ پر دیدۂ خوں بار رنگ

    کس کی ہولی جشن نو روزی ہے آج

    سرخ مے سے ساقیا دستار رنگ

    ہجر جاناں میں ٹھہرتا ہی نہیں

    کیا ہی میرے منہ سے ہے بیزار رنگ

    کیا ہے گرگٹ آسماں کے سامنے

    بدلے اک اک دم میں سو سو بار رنگ

    آتی ہے او قیس لیلیٰ دشت میں

    خون پا سے جلد اب پر خار رنگ

    دھوپ ہے پر میرے روز ہجر کا

    ہے برنگ سایۂ دیوار رنگ

    ہو گیا کیوں زرد ناسخؔ کیا کہوں

    ہے زمانے کا عجب اے یار رنگ

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY