اب نہیں لوٹ کے آنے والا

اختر نظمی

اب نہیں لوٹ کے آنے والا

اختر نظمی

MORE BY اختر نظمی

    اب نہیں لوٹ کے آنے والا

    گھر کھلا چھوڑ کے جانے والا

    ہو گئیں کچھ ادھر ایسی باتیں

    رک گیا روز کا آنے والا

    عکس آنکھوں سے چرا لیتا ہے

    ایک تصویر بنانے والا

    لاکھ ہونٹوں پہ ہنسی ہو لیکن

    خوش نہیں خوش نظر آنے والا

    زد میں طوفان کی آیا کیسے

    پیاس ساحل پہ بجھانے والا

    رہ گیا ہے مرا سایہ بن کر

    مجھ کو خاطر میں نہ لانے والا

    بن گیا ہم سفر آخر نظمیؔ

    راستہ کاٹ کے جانے والا

    مآخذ:

    • Book : Hindustani Gazle.n

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY