اب اداس پھرتے ہو سردیوں کی شاموں میں

شعیب بن عزیز

اب اداس پھرتے ہو سردیوں کی شاموں میں

شعیب بن عزیز

MORE BYشعیب بن عزیز

    اب اداس پھرتے ہو سردیوں کی شاموں میں

    اس طرح تو ہوتا ہے اس طرح کے کاموں میں

    اب تو اس کی آنکھوں کے مے کدے میسر ہیں

    پھر سکون ڈھونڈوگے ساغروں میں جاموں میں

    دوستی کا دعویٰ کیا عاشقی سے کیا مطلب

    میں ترے فقیروں میں میں ترے غلاموں میں

    زندگی بکھرتی ہے شاعری نکھرتی ہے

    دلبروں کی گلیوں میں دل لگی کے کاموں میں

    جس طرح شعیبؔ اس کا نام چن لیا تم نے

    اس نے بھی ہے چن رکھا ایک نام ناموں میں

    ویڈیو
    This video is playing from YouTube

    Videos
    This video is playing from YouTube

    شعیب بن عزیز

    شعیب بن عزیز

    مآخذ:

    • کتاب : muntakhab shahkaar ghazle.n (Pg. 59)

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY