اچانک تری یاد کا سلسلہ (ردیف .. ا)

محمد علوی

اچانک تری یاد کا سلسلہ (ردیف .. ا)

محمد علوی

MORE BY محمد علوی

    اچانک تری یاد کا سلسلہ

    اندھیرے کی دیوار بن کے گرا

    ابھی کوئی سایہ نکل آئے گا

    ذرا جسم کو روشنی تو دکھا

    پڑا تھا درختوں تلے ٹوٹ کر

    چمکتی ہوئی دھوپ کا آئنا

    کوئی اپنے گھر سے نکلتا نہیں

    عجب حال ہے آج کل شہر کا

    میں اس کے بدن کی مقدس کتاب

    نہایت عقیدت سے پڑھتا رہا

    یہ کیا آپ پھر شعر کہنے لگے

    ارے یار علویؔ یہ پھر کیا ہوا

    RECITATIONS

    نعمان شوق

    نعمان شوق

    نعمان شوق

    اچانک تری یاد کا سلسلہ (ردیف .. ا) نعمان شوق

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY