ادا ادا تری موج شراب ہو کے رہی

جلیل مانک پوری

ادا ادا تری موج شراب ہو کے رہی

جلیل مانک پوری

MORE BYجلیل مانک پوری

    ادا ادا تری موج شراب ہو کے رہی

    نگاہ مست سے دنیا خراب ہو کے رہی

    غضب تھا ان کا تلون کہ چار ہی دن میں

    نگاہ لطف نگاہ عتاب ہو کے رہی

    تری گلی کی ہوا دل کو راس کیا آتی

    ہوا یہ حال کہ مٹی خراب ہو کے رہی

    وہ آہ دل جسے سن سن کے آپ ہنستے تھے

    خدنگ ناز کا آخر جواب ہو کے رہی

    پڑی تھی کشت تمنا جو خشک مدت سے

    رہین منت چشم پر آب ہو کے رہی

    ہماری کشتیٔ توبہ کا یہ ہوا انجام

    بہار آتے ہی غرق شراب ہو کے رہی

    کسی میں تاب کہاں تھی کہ دیکھتا ان کو

    اٹھی نقاب تو حیرت نقاب ہو کے رہی

    وہ بزم عیش جو رہتی تھی گرم راتوں کو

    فسانہ ہو کے رہی ایک خواب ہو کے رہی

    جلیلؔ فصل بہاری کی دیکھیے تاثیر

    گری جو بوند گھٹا سے شراب ہو کے رہی

    مآخذ:

    • کتاب : Kainat-e-Jalil Manakpuri (Pg. 348)

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY