ادائے حیرت آئینہ گر بھی رکھتے ہیں

دل ایوبی

ادائے حیرت آئینہ گر بھی رکھتے ہیں

دل ایوبی

MORE BYدل ایوبی

    ادائے حیرت آئینہ گر بھی رکھتے ہیں

    ہمیں نہ چھیڑ کہ اب تک نظر بھی رکھتے ہیں

    نہ گرد و پیش سے اس درجہ بے نیاز گزر

    جو بے خبر سے ہیں سب کی خبر بھی رکھتے ہیں

    کہاں گیا تری محفل میں زعم دیدہ وراں

    یہ حوصلہ تو یہاں کم نظر بھی رکھتے ہیں

    قفس کو کھول مگر اتنا سوچ لے صیاد

    بہت اسیر تیرے بال و پر بھی رکھتے ہیں

    فرشتہ ہے تو تقدس تجھے مبارک ہو

    ہم آدمی ہیں تو عیب و ہنر بھی رکھتے ہیں

    خوشا نصیب کہ دیوانے ہیں تو ہم اے دلؔ

    کمال نسبت دیوانہ گر بھی رکھتے ہیں

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY