اے دوست مٹ گیا ہوں فنا ہو گیا ہوں میں

حفیظ جالندھری

اے دوست مٹ گیا ہوں فنا ہو گیا ہوں میں

حفیظ جالندھری

MORE BYحفیظ جالندھری

    اے دوست مٹ گیا ہوں فنا ہو گیا ہوں میں

    اس دور دوستی کی دوا ہو گیا ہوں میں

    قائم کیا ہے میں نے عدم کے وجود کو

    دنیا سمجھ رہی ہے فنا ہو گیا ہوں میں

    ہمت بلند تھی مگر افتاد دیکھنا

    چپ چاپ آج محو دعا ہو گیا ہوں میں

    یہ زندگی فریب مسلسل نہ ہو کہیں

    شاید اسیر دام بلا ہو گیا ہوں میں

    ہاں کیف بے خودی کی وہ ساعت بھی یاد ہے

    محسوس کر رہا تھا خدا ہو گیا ہوں میں

    مآخذ:

    • کتاب : Junoon (Pg. 95)
    • Author : Naseem Muqri
    • مطبع : Naseem Muqri (1990)
    • اشاعت : 1990

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY