ایسا ہے کہ سب خواب مسلسل نہیں ہوتے

احمد فراز

ایسا ہے کہ سب خواب مسلسل نہیں ہوتے

احمد فراز

MORE BYاحمد فراز

    ایسا ہے کہ سب خواب مسلسل نہیں ہوتے

    جو آج تو ہوتے ہیں مگر کل نہیں ہوتے

    اندر کی فضاؤں کے کرشمے بھی عجب ہیں

    مینہ ٹوٹ کے برسے بھی تو بادل نہیں ہوتے

    کچھ مشکلیں ایسی ہیں کہ آساں نہیں ہوتیں

    کچھ ایسے معمے ہیں کبھی حل نہیں ہوتے

    شائستگیٔ غم کے سبب آنکھوں کے صحرا

    نمناک تو ہو جاتے ہیں جل تھل نہیں ہوتے

    کیسے ہی تلاطم ہوں مگر قلزم جاں میں

    کچھ یاد جزیرے ہیں کہ اوجھل نہیں ہوتے

    عشاق کے مانند کئی اہل ہوس بھی

    پاگل تو نظر آتے ہیں پاگل نہیں ہوتے

    سب خواہشیں پوری ہوں فرازؔ ایسا نہیں ہے

    جیسے کئی اشعار مکمل نہیں ہوتے

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY