ایسی مشکل میں نہ جاں تھی پہلے

منیر سیفی

ایسی مشکل میں نہ جاں تھی پہلے

منیر سیفی

MORE BYمنیر سیفی

    ایسی مشکل میں نہ جاں تھی پہلے

    زیست کب اتنی گراں تھی پہلے

    آسماں تھا نہ زمیں تھی کوئی

    کائنات ایک دھواں تھی پہلے

    دھوپ بہروپ پگھلتا سونا

    چاندنی آب رواں تھی پہلے

    ایک مخصوص سماعت سب کی

    ایک مانوس زباں تھی پہلے

    قتل کے کب تھے یہ سارے ساماں

    ایک تیر ایک کماں تھی پہلے

    یہ جو بجلی سی چمک جاتی ہے

    سات پردوں میں نہاں تھی پہلے

    اس جگہ بنک نہیں ہوتا تھا

    اک کتابوں کی دکاں تھی پہلے

    کچھ تو رستے تھے ستاروں ایسے

    کچھ طبیعت بھی رواں تھی پہلے

    پھول ہی پھول کھلا کرتے تھے

    مجھ میں یہ آگ کہاں تھی پہلے

    زخم دیوار بتاتا ہے منیرؔ

    ایک تصویر یہاں تھی پہلے

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY