عجب خجالت جاں ہے نظر تک آئی ہوئی
عجب خجالت جاں ہے نظر تک آئی ہوئی
کہ جیسے زخم کی تقریب رو نمائی ہوئی
نظر تو اپنے مناظر کے رمز جانتی ہے
کہ آنکھ کہہ نہیں سکتی سنی سنائی ہوئی
برون خاک فقط چند ٹھیکرے ہیں مگر
یہاں سے شہر ملیں گے اگر کھدائی ہوئی
خبر نہیں ہے کہ تو بھی وہاں ملے نہ ملے
اگر کبھی مرے دل تک مری رسائی ہوئی
میں آندھیوں کے مقابل کھڑا ہوا ہوں سعودؔ
پڑی ہے فصل محبت کٹی کٹائی ہوئی
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.