عجیب درد کا رشتہ تھا سب کے سب روئے

طارق نعیم

عجیب درد کا رشتہ تھا سب کے سب روئے

طارق نعیم

MORE BYطارق نعیم

    عجیب درد کا رشتہ تھا سب کے سب روئے

    شجر گرا تو پرندے تمام شب روئے

    کسی کا بھی نہ چراغوں کی سمت دھیان گیا

    شب نشاط وہ کب کب بجھے تھے کب روئے

    ہزار گریہ کے پہلو نکلنے والے ہیں

    اسے کہو کہ وہ یوں ہی نہ بے سبب روئے

    ہمارے زاد سفر میں بھی درد رکھا گیا

    سو ہم بھی ٹوٹ کے روئے سفر میں جب روئے

    کسی کی آنکھ ہی بھیگی نہ سیل درد گیا

    تمہاری یاد میں اب کے برس عجب روئے

    ترے خیال کی لو ہی سفر میں کام آئی

    مرے چراغ تو لگتا تھا روئے اب روئے

    کچھ اپنا درد ہی طارقؔ نعیم ایسا تھا

    بغیر موسم گریہ بھی ہم غضب روئے

    مأخذ :
    • کتاب : ruki huii shamon kii raahdaariyaz (Pg. 29)

    موضوعات :

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY