اپنا جیسا بھی حال رکھا ہے

اظہر ادیب

اپنا جیسا بھی حال رکھا ہے

اظہر ادیب

MORE BYاظہر ادیب

    اپنا جیسا بھی حال رکھا ہے

    تیرے غم کو نہال رکھا ہے

    شاعری کیا ہے ہم نے جینے کا

    ایک رستہ نکال رکھا ہے

    ہم نے گھر کی سلامتی کے لئے

    خود کو گھر سے نکال رکھا ہے

    میرے اندر جو سرپھرا ہے اسے

    میں نے زنداں میں ڈال رکھا ہے

    ایک چہرہ ہے ہم نے جس کے لئے

    آئنوں کا خیال رکھا ہے

    اس برس کا بھی نام ہم نے تو

    تیری یادوں کا سال رکھا ہے

    گرتے گرتے بھی ہم نے ہاتھوں پر

    آسماں کو سنبھال رکھا ہے

    کیا خبر شیشہ گر نے کیوں اظہرؔ

    میرے شیشے میں بال رکھا ہے

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY