اپنی آنکھوں کے سمندر میں اتر جانے دے

نظیر باقری

اپنی آنکھوں کے سمندر میں اتر جانے دے

نظیر باقری

MORE BYنظیر باقری

    اپنی آنکھوں کے سمندر میں اتر جانے دے

    تیرا مجرم ہوں مجھے ڈوب کے مر جانے دے

    اے نئے دوست میں سمجھوں گا تجھے بھی اپنا

    پہلے ماضی کا کوئی زخم تو بھر جانے دے

    زخم کتنے تری چاہت سے ملے ہیں مجھ کو

    سوچتا ہوں کہ کہوں تجھ سے مگر جانے دے

    آگ دنیا کی لگائی ہوئی بجھ جائے گی

    کوئی آنسو مرے دامن پہ بکھر جانے دے

    ساتھ چلنا ہے تو پھر چھوڑ دے ساری دنیا

    چل نہ پائے تو مجھے لوٹ کے گھر جانے دے

    زندگی میں نے اسے کیسے پرویا تھا نہ سوچ

    ہار ٹوٹا ہے تو موتی بھی بکھر جانے دے

    ان اندھیروں سے ہی سورج کبھی نکلے گا نظیرؔ

    رات کے سائے ذرا اور نکھر جانے دے

    مأخذ :
    • کتاب : Etemaad (Pg. 47)

    موضوعات :

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY