اپنی نظر سے ٹوٹ کر اپنی نظر میں گم ہوا

حکیم منظور

اپنی نظر سے ٹوٹ کر اپنی نظر میں گم ہوا

حکیم منظور

MORE BYحکیم منظور

    اپنی نظر سے ٹوٹ کر اپنی نظر میں گم ہوا

    وہ بڑا با شعور تھا اپنے ہی گھر میں گم ہوا

    مرگ زدہ تھے رنگ سب آئنے پشت چشم تھے

    اک وہی درد مند تھا خوف و خطر میں گم ہوا

    راستے آئینے بنے پاؤں تمام رنگ تھے

    اس پہ بھی یہ سوال وہ کیسے سفر میں گم ہوا

    سوچ حواس میں نہ تھی آنکھ حدود میں نہ تھی

    پیڑ ہوا میں اڑ گئے سانپ کھنڈر میں گم ہوا

    ہر خبر اس سے تھی خبر اور وہ بے پناہ تھا

    حرف زدہ ہوا تو پھر ایک خبر میں گم ہوا

    موج شفق سراب تھی مرگ نظر خیال تھا

    دائرہ آب پر رہا نقطہ بھنور میں گم ہوا

    مجھ میں تھے جتنے عیب وہ میرے قلم نے لکھ دیئے

    مجھ میں تھا جتنا حسن وہ میرے ہنر میں گم ہوا

    مآخذ :
    • کتاب : Natamam (Pg. 17)
    • Author : Hakeem Manzoor
    • مطبع : Samt Publication 2/48 Rajendar Nagar New Delhi-10060 (1977)
    • اشاعت : 1977

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY