اپنی رسوائی ترے نام کا چرچا دیکھوں

پروین شاکر

اپنی رسوائی ترے نام کا چرچا دیکھوں

پروین شاکر

MORE BYپروین شاکر

    اپنی رسوائی ترے نام کا چرچا دیکھوں

    اک ذرا شعر کہوں اور میں کیا کیا دیکھوں

    نیند آ جائے تو کیا محفلیں برپا دیکھوں

    آنکھ کھل جائے تو تنہائی کا صحرا دیکھوں

    شام بھی ہو گئی دھندلا گئیں آنکھیں بھی مری

    بھولنے والے میں کب تک ترا رستا دیکھوں

    ایک اک کر کے مجھے چھوڑ گئیں سب سکھیاں

    آج میں خود کو تری یاد میں تنہا دیکھوں

    کاش صندل سے مری مانگ اجالے آ کر

    اتنے غیروں میں وہی ہاتھ جو اپنا دیکھوں

    تو مرا کچھ نہیں لگتا ہے مگر جان حیات

    جانے کیوں تیرے لیے دل کو دھڑکنا دیکھوں

    بند کر کے مری آنکھیں وہ شرارت سے ہنسے

    بوجھے جانے کا میں ہر روز تماشا دیکھوں

    سب ضدیں اس کی میں پوری کروں ہر بات سنوں

    ایک بچے کی طرح سے اسے ہنستا دیکھوں

    مجھ پہ چھا جائے وہ برسات کی خوشبو کی طرح

    انگ انگ اپنا اسی رت میں مہکتا دیکھوں

    پھول کی طرح مرے جسم کا ہر لب کھل جائے

    پنکھڑی پنکھڑی ان ہونٹوں کا سایا دیکھوں

    میں نے جس لمحے کو پوجا ہے اسے بس اک بار

    خواب بن کر تری آنکھوں میں اترتا دیکھوں

    تو مری طرح سے یکتا ہے مگر میرے حبیب

    جی میں آتا ہے کوئی اور بھی تجھ سا دیکھوں

    ٹوٹ جائیں کہ پگھل جائیں مرے کچے گھڑے

    تجھ کو میں دیکھوں کہ یہ آگ کا دریا دیکھوں

    ویڈیو
    This video is playing from YouTube

    Videos
    This video is playing from YouTube

    نامعلوم

    نامعلوم

    RECITATIONS

    فہد حسین

    فہد حسین

    فہد حسین

    اپنی رسوائی ترے نام کا چرچا دیکھوں فہد حسین

    مأخذ :
    • کتاب : kulliyaat-e-maahe tamaam(khshbo) (Pg. 60)

    موضوعات :

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY