اپنوں کے ستم یاد نہ غیروں کی جفا یاد

دوارکا داس شعلہ

اپنوں کے ستم یاد نہ غیروں کی جفا یاد

دوارکا داس شعلہ

MORE BY دوارکا داس شعلہ

    اپنوں کے ستم یاد نہ غیروں کی جفا یاد

    وہ ہنس کے ذرا بولے تو کچھ بھی نہ رہا یاد

    کیا لطف اٹھائے گا جہان گزراں کا

    وہ شخص کہ جس شخص کو رہتی ہو قضا یاد

    ہم کاگ اڑا دیتے ہیں بوتل کا اسی وقت

    گرمی میں بھی آ جاتی ہے جب کالی گھٹا یاد

    محشر میں بھی ہم تیری شکایت نہ کریں گے

    آ جائے گی اس دن بھی ہمیں شرط وفا یاد

    پی لی تو خدا ایک تماشا نظر آیا

    آیا بھی تو آیا ہمیں کس وقت خدا یاد

    اللہ ترا شکر کہ امید کرم ہے

    اللہ ترا شکر کہ اس نے بھی کیا یاد

    کل تک ترے باعث میں اسے بھولا ہوا تھا

    کیوں آنے لگا پھر سے مجھے آج خدا یاد

    مآخذ:

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY