عرض ہنر بھی وجہ شکایات ہو گئی

حفیظ جالندھری

عرض ہنر بھی وجہ شکایات ہو گئی

حفیظ جالندھری

MORE BYحفیظ جالندھری

    عرض ہنر بھی وجہ شکایات ہو گئی

    چھوٹا سا منہ تھا مجھ سے بڑی بات ہو گئی

    دشنام کا جواب نہ سوجھا بجز سلام

    ظاہر مرے کلام کی اوقات ہو گئی

    دیکھا جو کھا کے تیر کمیں گاہ کی طرف

    اپنے ہی دوستوں سے ملاقات ہو گئی

    یا ضربت خلیل سے بت خانہ چیخ اٹھا

    یا پتھروں کو معرفت ذات ہو گئی

    یاران بے بساط کہ ہر بازئ حیات

    کھیلے بغیر ہار گئے مات ہو گئی

    بے رزم دن گزار لیا رتجگا مناؤ

    اے اہل بزم جاگ اٹھو رات ہو گئی

    نکلے جو میکدے سے تو مسجد تھا ہر مقام

    ہر گام پر تلافئ مافات ہو گئی

    حد عمل میں تھی تو عمل تھی یہی شراب

    رد عمل بنی تو مکافات ہو گئی

    اب شکر ناقبول ہے شکوہ فضول ہے

    جیسے بھی ہو گئی بسر اوقات ہو گئی

    وہ خوش نصیب تم سے ملاقات کیوں کرے

    دربان ہی سے جس کی مدارات ہو گئی

    ہر ایک رہنما سے بچھڑنا پڑا مجھے

    ہر موڑ پر کوئی نہ کوئی گھات ہو گئی

    یاروں کی برہمی پہ ہنسی آ گئی حفیظؔ

    یہ مجھ سے ایک اور بری بات ہو گئی

    مآخذ :
    • کتاب : Kulliyat-e-Hafeez Jalandhari (Pg. 666)

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY