ارض و سما کہاں تری وسعت کو پا سکے

خواجہ میر درد

ارض و سما کہاں تری وسعت کو پا سکے

خواجہ میر درد

MORE BYخواجہ میر درد

    ارض و سما کہاں تری وسعت کو پا سکے

    میرا ہی دل ہے وہ کہ جہاں تو سما سکے

    وحدت میں تیری حرف دوئی کا نہ آ سکے

    آئینہ کیا مجال تجھے منہ دکھا سکے

    میں وہ فتادہ ہوں کہ بغیر از فنا مجھے

    نقش قدم کی طرح نہ کوئی اٹھا سکے

    قاصد نہیں یہ کام ترا اپنی راہ لے

    اس کا پیام دل کے سوا کون لا سکے

    غافل خدا کی یاد پہ مت بھول زینہار

    اپنے تئیں بھلا دے اگر تو بھلا سکے

    یارب یہ کیا طلسم ہے ادراک و فہم یاں

    دوڑے ہزار آپ سے باہر نہ جا سکے

    گو بحث کر کے بات بٹھائی بھی کیا حصول

    دل سے اٹھا غلاف اگر تو اٹھا سکے

    اطفائے نار عشق نہ ہو آب اشک سے

    یہ آگ وہ نہیں جسے پانی بجھا سکے

    مست شراب عشق وہ بے خود ہے جس کو حشر

    اے دردؔ چاہے لائے بہ خود پر نہ لا سکے

    RECITATIONS

    فصیح اکمل

    فصیح اکمل

    فصیح اکمل

    ارض و سما کہاں تری وسعت کو پا سکے فصیح اکمل

    موضوعات:

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY