اشعار مرے یوں تو زمانے کے لیے ہیں

جاں نثاراختر

اشعار مرے یوں تو زمانے کے لیے ہیں

جاں نثاراختر

MORE BY جاں نثاراختر

    اشعار مرے یوں تو زمانے کے لیے ہیں

    کچھ شعر فقط ان کو سنانے کے لیے ہیں

    اب یہ بھی نہیں ٹھیک کہ ہر درد مٹا دیں

    کچھ درد کلیجے سے لگانے کے لیے ہیں

    سوچو تو بڑی چیز ہے تہذیب بدن کی

    ورنہ یہ فقط آگ بجھانے کے لیے ہیں

    آنکھوں میں جو بھر لو گے تو کانٹوں سے چبھیں گے

    یہ خواب تو پلکوں پہ سجانے کے لیے ہیں

    دیکھوں ترے ہاتھوں کو تو لگتا ہے ترے ہاتھ

    مندر میں فقط دیپ جلانے کے لیے ہیں

    یہ علم کا سودا یہ رسالے یہ کتابیں

    اک شخص کی یادوں کو بھلانے کے لیے ہیں

    RECITATIONS

    نعمان شوق

    نعمان شوق

    جاوید نسیم

    جاوید نسیم

    نعمان شوق

    اشعار مرے یوں تو زمانے کے لیے ہیں نعمان شوق

    Tagged Under

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY