اشک پینے کے لیے خاک اڑانے کے لیے

شکیل جمالی

اشک پینے کے لیے خاک اڑانے کے لیے

شکیل جمالی

MORE BY شکیل جمالی

    اشک پینے کے لیے خاک اڑانے کے لیے

    اب مرے پاس خزانہ ہے لٹانے کے لیے

    ایسی دفعہ نہ لگا جس میں ضمانت مل جائے

    میرے کردار کو چن اپنے نشانے کے لیے

    کن زمینوں پہ اتارو گے اب امداد کا قہر

    کون سا شہر اجاڑو گے بسانے کے لیے

    میں نے ہاتھوں سے بجھائی ہے دہکتی ہوئی آگ

    اپنے بچے کے کھلونے کو بچانے کے لیے

    ہو گئی ہے مری اجڑی ہوئی دنیا آباد

    میں اسے ڈھونڈ رہا ہوں یہ بتانے کے لیے

    نفرتیں بیچنے والوں کی بھی مجبوری ہے

    مال تو چاہئے دوکان چلانے کے لیے

    جی تو کہتا ہے کہ بستر سے نہ اتروں کئی روز

    گھر میں سامان تو ہو بیٹھ کے کھانے کے لیے

    Tagged Under

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY