اونے پونے غزلیں بیچیں نظموں کا بیوپار کیا

محمود شام

اونے پونے غزلیں بیچیں نظموں کا بیوپار کیا

محمود شام

MORE BY محمود شام

    اونے پونے غزلیں بیچیں نظموں کا بیوپار کیا

    دیکھو ہم نے پیٹ کی خاطر کیا کیا کاروبار کیا

    اس بستی کے لوگ تو سب تھے چلتی پھرتی دیواریں

    ہم نے رنگ لٹاتی شب سے اجلے دنوں سے پیار کیا

    ذہن سے اک اک کر کے تیری ساری باتیں اتر گئیں

    کبھی کبھی تو وقت نے ہم کو ایسا بھی ناچار کیا

    اپنا آپ بھی کھویا ہم نے لوگوں سے بھی چھوٹا ساتھ

    اک سائے کی دھن نے ہم کو کیسے کیسے خار کیا

    سارے عہد کا بوجھ تھا سر پر دل میں سارے جہاں کا غم

    وقت کا جلتا ابلتا صحرا ہم نے جس دم پار کیا

    جاگتی گلیوں اونچے گھروں میں زرد اندھیرا ناچتا ہے

    جس لمحے سے ہم ڈرتے تھے اس نے آخر وار کیا

    شام کی ٹھنڈی آہوں میں بھی تیری خوشبو شامل تھی

    رات گئے تک پیڑوں نے بھی تیرا ذکر اذکار کیا

    مآخذ:

    • Book : chera chera mery kahani (Pg. 53)

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY