اور تو کوئی بس نہ چلے گا ہجر کے درد کے ماروں کا

ابن انشا

اور تو کوئی بس نہ چلے گا ہجر کے درد کے ماروں کا

ابن انشا

MORE BYابن انشا

    اور تو کوئی بس نہ چلے گا ہجر کے درد کے ماروں کا

    صبح کا ہونا دوبھر کر دیں رستہ روک ستاروں کا

    جھوٹے سکوں میں بھی اٹھا دیتے ہیں یہ اکثر سچا مال

    شکلیں دیکھ کے سودے کرنا کام ہے ان بنجاروں کا

    اپنی زباں سے کچھ نہ کہیں گے چپ ہی رہیں گے عاشق لوگ

    تم سے تو اتنا ہو سکتا ہے پوچھو حال بیچاروں کا

    جس جپسی کا ذکر ہے تم سے دل کو اسی کی کھوج رہی

    یوں تو ہمارے شہر میں اکثر میلا لگا نگاروں کا

    ایک ذرا سی بات تھی جس کا چرچا پہنچا گلی گلی

    ہم گمناموں نے پھر بھی احسان نہ مانا یاروں کا

    درد کا کہنا چیخ ہی اٹھو دل کا کہنا وضع نبھاؤ

    سب کچھ سہنا چپ چپ رہنا کام ہے عزت داروں کا

    انشاؔ جی اب اجنبیوں میں چین سے باقی عمر کٹے

    جن کی خاطر بستی چھوڑی نام نہ لو ان پیاروں کا

    مآخذ :
    • کتاب : Chand Nagar (Pg. 91)

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY