عورت ہوں مگر صورت کہسار کھڑی ہوں

فرحت زاہد

عورت ہوں مگر صورت کہسار کھڑی ہوں

فرحت زاہد

MORE BYفرحت زاہد

    عورت ہوں مگر صورت کہسار کھڑی ہوں

    اک سچ کے تحفظ کے لیے سب سے لڑی ہوں

    وہ مجھ سے ستاروں کا پتا پوچھ رہا ہے

    پتھر کی طرح جس کی انگوٹھی میں جڑی ہوں

    الفاظ نہ آواز نہ ہم راز نہ دم ساز

    یہ کیسے دوراہے پہ میں خاموش کھڑی ہوں

    اس دشت بلا میں نہ سمجھ خود کو اکیلا

    میں چوب کی صورت ترے خیمے میں گڑی ہوں

    پھولوں پہ برستی ہوں کبھی صورت شبنم

    بدلی ہوئی رت میں کبھی ساون کی جھڑی ہوں

    موضوعات :

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY