یہ نازک سی مرے اندر کی لڑکی

عشرت آفریں

یہ نازک سی مرے اندر کی لڑکی

عشرت آفریں

MORE BYعشرت آفریں

    یہ نازک سی مرے اندر کی لڑکی

    عجب جذبے عجب تیور کی لڑکی

    یوں ہی زخمی نہیں ہیں ہاتھ میرے

    تراشی میں نے اک پتھر کی لڑکی

    کھڑی ہے فکر کے آذر کدے میں

    بریدہ دست پھر آذر کی لڑکی

    انا کھوئی تو کڑھ کر مر گئی وہ

    بڑی حساس تھی اندر کی لڑکی

    سزاوار ہنر مجھ کو نہ ٹھہرا

    یہ فن میرا نہ میں آذر کی لڑکی

    بکھر کر شیشہ شیشہ ریزہ ریزہ

    سمٹ کر پھول سے پیکر کی لڑکی

    حویلی کے مکیں تو چاہتے تھے

    کہ گھر ہی میں رہے یہ گھر کی لڑکی

    موضوعات :

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY