بادل ہے اور پھول کھلے ہیں سبھی طرف

باصر سلطان کاظمی

بادل ہے اور پھول کھلے ہیں سبھی طرف

باصر سلطان کاظمی

MORE BY باصر سلطان کاظمی

    بادل ہے اور پھول کھلے ہیں سبھی طرف

    کہتا ہے دل کہ آج نکل جا کسی طرف

    تیور بہت خراب تھے سنتے ہیں کل ترے

    اچھا ہوا کہ ہم نے نہ دیکھا تری طرف

    جب بھی ملے ہم ان سے انہوں نے یہی کہا

    بس آج آنے والے تھے ہم آپ کی طرف

    اے دل یہ دھڑکنیں تری معمول کی نہیں

    لگتا ہے آ رہا ہے وہ فتنہ اسی طرف

    خوش تھا کہ چار نیکیاں ہیں جمع اس کے پاس

    نکلے گناہ بیسیوں الٹا مری طرف

    باصرؔ عدو سے ہم تو یونہی بد گماں رہے

    تھا ان کا التفات کسی اور ہی طرف

    ویڈیو
    This video is playing from YouTube

    Videos
    This video is playing from YouTube

    باصر سلطان کاظمی

    باصر سلطان کاظمی

    مآخذ:

    • کتاب : Ghazal Calendar-2015 (Pg. 13.03.2015)

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY