باغ میں تو کبھو جو ہنستا ہے

شیخ ظہور الدین حاتم

باغ میں تو کبھو جو ہنستا ہے

شیخ ظہور الدین حاتم

MORE BYشیخ ظہور الدین حاتم

    باغ میں تو کبھو جو ہنستا ہے

    غنچۂ دل مرا بکستا ہے

    ارے بے مہر مجھ کو روتا چھوڑ

    کہاں جاتا ہے مینہ برستا ہے

    تیرے ماروں ہوؤں کی صورت دیکھ

    میرا مرنے کو جی ترستا ہے

    تیری تروار سے کوئی نہ بچا

    اب کمر کس اوپر تو کستا ہے

    کیوں مزاحم ہے میرے آنے سے

    کوئی ترا گھر نہیں یہ رستا ہے

    میری فریاد کوئی نہیں سنتا

    کوئی اس شہر میں بھی بستا ہے

    حاتمؔ اس زلف کی طرف مت دیکھ

    جان کر کیوں بلا میں پھنستا ہے

    مآخذ:

    • کتاب : Diwan-e-Zadah (Pg. 301)

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY