باقی ہے وہی شوخئ گفتار ابھی تک

محمد عثمان عارف

باقی ہے وہی شوخئ گفتار ابھی تک

محمد عثمان عارف

MORE BYمحمد عثمان عارف

    باقی ہے وہی شوخئ گفتار ابھی تک

    دیوانے پہنچتے ہیں سر دار ابھی تک

    سر پر ہے بہاروں کے مرے خون کا صحرا

    آلودہ لہو سے ہیں گل و خار ابھی تک

    آزادئ کامل کے تصور میں ہے انساں

    اپنے ہی خیالوں میں گرفتار ابھی تک

    گاتے ہیں اخوت کے ترانے تو شب و روز

    بربادئ عالم کو ہیں تیار ابھی تک

    بیگانہ بنے لاکھ محبت سے زمانہ

    ہے جنس گراں مایہ ترا پیار ابھی تک

    ہوتی ہے خیالوں ہی میں تنظیم چمن کی

    کردار ہی بدلے ہیں نہ گفتار ابھی تک

    معصوم ہے معصوم بہت امن کی دیوی

    قبضہ میں لیے خنجر خوں خار ابھی تک

    عارفؔ یہ زمانہ تو بدلنا ہی پڑے گا

    اٹھو بھی ہے اس کی وہی رفتار ابھی تک

    مأخذ :
    • کتاب : Lamhoon Ki Dhadkane (Pg. 83)

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY