بدن کو خاک کیا اور لہو کو آب کیا

فہیم شناس کاظمی

بدن کو خاک کیا اور لہو کو آب کیا

فہیم شناس کاظمی

MORE BY فہیم شناس کاظمی

    بدن کو خاک کیا اور لہو کو آب کیا

    پھر اس کے بعد مرتب نیا نصاب کیا

    تھکن سمیٹ کے صدیوں کی جب گرے خود پر

    تجھے خود اپنے ہی اندر سے بازیاب کیا

    پھر اس کے بعد ترے عشق کو لگایا گلے

    ہر ایک سانس کو اپنے لیے عذاب کیا

    اگر وجود میں آ کر اسے نہ ملنا تھا

    ہمیں کیوں بھیج کے اس دہر میں خراب کیا

    اسی نے چاند کے پہلو میں اک چراغ رکھا

    اسی نے دشت کے ذروں کو آفتاب کیا

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY

    Added to your favorites

    Removed from your favorites