بڑے غضب کا ہے یارو بڑے عذاب کا زخم

ابن صفی

بڑے غضب کا ہے یارو بڑے عذاب کا زخم

ابن صفی

MORE BYابن صفی

    بڑے غضب کا ہے یارو بڑے عذاب کا زخم

    اگر شباب ہی ٹھہرا مرے شباب کا زخم

    ذرا سی بات تھی کچھ آسماں نہ پھٹ پڑتا

    مگر ہرا ہے ابھی تک ترے جواب کا زخم

    زمیں کی کوکھ ہی زخمی نہیں اندھیروں سے

    ہے آسماں کے بھی سینے پہ آفتاب کا زخم

    میں سنگسار جو ہوتا تو پھر بھی خوش رہتا

    کھٹک رہا ہے مگر دل میں اک گلاب کا زخم

    اسی کی چارہ گری میں گزر گئی اسرارؔ

    تمام عمر کو کافی تھا اک شباب کا زخم

    RECITATIONS

    نعمان شوق

    نعمان شوق

    نعمان شوق

    بڑے غضب کا ہے یارو بڑے عذاب کا زخم نعمان شوق

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY