بہت رک رک کے چلتی ہے ہوا خالی مکانوں میں

احمد مشتاق

بہت رک رک کے چلتی ہے ہوا خالی مکانوں میں

احمد مشتاق

MORE BYاحمد مشتاق

    بہت رک رک کے چلتی ہے ہوا خالی مکانوں میں

    بجھے ٹکڑے پڑے ہیں سگریٹوں کے راکھ دانوں میں

    دھوئیں سے آسماں کا رنگ میلا ہوتا جاتا ہے

    ہرے جنگل بدلتے جا رہے ہیں کارخانوں میں

    بھلی لگتی ہے آنکھوں کو نئے پھولوں کی رنگت بھی

    پرانے زمزمے بھی گونجتے رہتے ہیں کانوں میں

    وہی گلشن ہے لیکن وقت کی پرواز تو دیکھو

    کوئی طائر نہیں پچھلے برس کے آشیانوں میں

    زبانوں پر الجھتے دوستوں کو کون سمجھائے

    محبت کی زباں ممتاز ہے ساری زبانوں میں

    RECITATIONS

    نعمان شوق

    نعمان شوق

    نعمان شوق

    بہت رک رک کے چلتی ہے ہوا خالی مکانوں میں نعمان شوق

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY