بہت زندگی کا بھلا چاہتا ہوں

خالد مبشر

بہت زندگی کا بھلا چاہتا ہوں

خالد مبشر

MORE BY خالد مبشر

    بہت زندگی کا بھلا چاہتا ہوں

    بہ الفاظ دیگر قضا چاہتا ہوں

    مری وحشتوں کا سبب کون سمجھے

    کہ میں گم شدہ قافلہ چاہتا ہوں

    بتوں سے ہوں بیزار اتنا کہ بس اب

    خدا ہی خدا بس خدا چاہتا ہوں

    یہ دنیا یہ عقبیٰ تو سب چاہتے ہیں

    مگر میں کچھ اس کے سوا چاہتا ہوں

    جداگانہ ہیں اب یزیدی مظالم

    سو میں کربلا بھی جدا چاہتا ہوں

    عناصر کی زنجیر کو توڑ کر میں

    فنا چاہتا ہوں بقا چاہتا ہوں

    مجھے شک ہے ہونے نہ ہونے پہ خالدؔ

    اگر ہوں تو اپنا پتا چاہتا ہوں

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY