بنے بنائے سے رستوں کا سلسلہ نکلا

خلیل الرحمن اعظمی

بنے بنائے سے رستوں کا سلسلہ نکلا

خلیل الرحمن اعظمی

MORE BYخلیل الرحمن اعظمی

    بنے بنائے سے رستوں کا سلسلہ نکلا

    نیا سفر بھی بہت ہی گریز پا نکلا

    نہ جانے کس کی ہمیں عمر بھر تلاش رہی

    جسے قریب سے دیکھا وہ دوسرا نکلا

    ہمیں تو راس نہ آئی کسی کی محفل بھی

    کوئی خدا کوئی ہم سایۂ خدا نکلا

    ہزار طرح کی مے پی ہزار طرح کے زہر

    نہ پیاس ہی بجھی اپنی نہ حوصلہ نکلا

    ہمارے پاس سے گزری تھی ایک پرچھائیں

    پکارا ہم نے تو صدیوں کا فاصلہ نکلا

    اب اپنے آپ کو ڈھونڈیں کہاں کہاں جا کر

    عدم سے تا بہ عدم اپنا نقش پا نکلا

    مأخذ :
    • کتاب : aasmaan ai aasmaan (Pg. 159)

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY