بزم تکلفات سجانے میں رہ گیا

حفیظ میرٹھی

بزم تکلفات سجانے میں رہ گیا

حفیظ میرٹھی

MORE BY حفیظ میرٹھی

    بزم تکلفات سجانے میں رہ گیا

    میں زندگی کے ناز اٹھانے میں رہ گیا

    تاثیر کے لیے جہاں تحریف کی گئی

    اک جھول بس وہیں پہ فسانے میں رہ گیا

    سب مجھ پہ مہر جرم لگاتے چلے گئے

    میں سب کو اپنے زخم دکھانے میں رہ گیا

    خود حادثہ بھی موت پہ اس کی تھا دم بخود

    وہ دوسروں کی جان بچانے میں رہ گیا

    اب اہل کارواں پہ لگاتا ہے تہمتیں

    وہ ہم سفر جو حیلے بہانے میں رہ گیا

    میدان کارزار میں آئے وہ قوم کیا

    جس کا جوان آئینہ خانے میں رہ گیا

    وہ وقت کا جہاز تھا کرتا لحاظ کیا

    میں دوستوں سے ہاتھ ملانے میں رہ گیا

    سنتا نہیں ہے مفت جہاں بات بھی کوئی

    میں خالی ہاتھ ایسے زمانے میں رہ گیا

    بازار زندگی سے قضا لے گئی مجھے

    یہ دور میرے دام لگانے میں رہ گیا

    یہ بھی ہے ایک کار نمایاں حفیظؔ کا

    کیا سادہ لوح کیسے زمانے میں رہ گیا

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY