اس طرف وہ جو نظر پڑتا ہے
راستے میں مرا گھر پڑتا ہے
اختیارات سے مجبور ہے وہ
چاروں جانب سے اثر پڑتا ہے
آپ تو مشق کیا کرتے ہیں
اور ہر تیر ادھر پڑتا ہے
سر جھکانے کی جب عادت نہ رہی
آج ہر گام پہ در پڑتا ہے
رہنما آڑ نہ کر لے تو ہمیں
راہزن صاف نظر پڑتا ہے
کیوں نہ کانٹوں پہ لہو ٹپکائیں
پھول چھوتے ہی بکھر پڑتا ہے
محترم زخم لٹاتے چلیے
راہ میں دل کا نگر پڑتا ہے
- کتاب : kamaan (Pg. 88)
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.