ہم کو تو گردش حالات پہ رونا آیا

سیف الدین سیف

ہم کو تو گردش حالات پہ رونا آیا

سیف الدین سیف

MORE BYسیف الدین سیف

    ہم کو تو گردش حالات پہ رونا آیا

    رونے والے تجھے کس بات پہ رونا آیا

    کیسے جیتے ہیں یہ کس طرح جیے جاتے ہیں

    اہل دل کی بسر اوقات پہ رونا آیا

    جی نہیں آپ سے کیا مجھ کو شکایت ہوگی

    ہاں مجھے تلخئ حالات پہ رونا آیا

    حسن مغرور کا یہ رنگ بھی دیکھا آخر

    آخر ان کو بھی کسی بات پہ رونا آیا

    کیسے مر مر کے گزاری ہے تمہیں کیا معلوم

    رات بھر تاروں بھری رات پہ رونا آیا

    کتنے بیتاب تھے رم جھم میں پئیں گے لیکن

    آئی برسات تو برسات پہ رونا آیا

    حسن نے اپنی جفاؤں پہ بہائے آنسو

    عشق کو اپنی شکایات پہ رونا آیا

    کتنے انجان ہیں کیا سادگی سے پوچھتے ہیں

    کہیے کیا میری کسی بات پہ رونا آیا

    اول اول تو بس ایک آہ نکل جاتی تھی

    آخر آخر تو ملاقات پہ رونا آیا

    سیفؔ یہ دن تو قیامت کی طرح گزرا ہے

    جانے کیا بات تھی ہر بات پہ رونا آیا

    RECITATIONS

    نعمان شوق

    نعمان شوق

    نعمان شوق

    ہم کو تو گردش حالات پہ رونا آیا نعمان شوق

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY