میں فقط چلتی رہی منزل کو سر اس نے کیا

پروین شاکر

میں فقط چلتی رہی منزل کو سر اس نے کیا

پروین شاکر

MORE BYپروین شاکر

    میں فقط چلتی رہی منزل کو سر اس نے کیا

    ساتھ میرے روشنی بن کر سفر اس نے کیا

    اس طرح کھینچی ہے میرے گرد دیوار خبر

    سارے دشمن روزنوں کو بے نظر اس نے کیا

    مجھ میں بستے سارے سناٹوں کی لے اس سے بنی

    پتھروں کے درمیاں تھی نغمہ گر اس نے کیا

    بے سر و ساماں پہ دل داری کی چادر ڈال دی

    بے در و دیوار تھی میں مجھ کو گھر اس نے کیا

    پانیوں میں یہ بھی پانی ایک دن تحلیل تھا

    قطرۂ بے صرفہ کو لیکن گہر اس نے کیا

    ایک معمولی سی اچھائی تراشی ہے بہت

    اور فکر خام سے صرف نظر اس نے کیا

    پھر تو امکانات پھولوں کی طرح کھلتے گئے

    ایک ننھے سے شگوفے کو شجر اس نے کیا

    طاق میں رکھے دیے کو پیار سے روشن کیا

    اس دیے کو پھر چراغ رہ گزر اس نے کیا

    موضوعات :

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY