بھلا کب دیکھ سکتا ہوں کہ غم ناکام ہو جائے

نشور واحدی

بھلا کب دیکھ سکتا ہوں کہ غم ناکام ہو جائے

نشور واحدی

MORE BY نشور واحدی

    بھلا کب دیکھ سکتا ہوں کہ غم ناکام ہو جائے

    جو آرام دل و جاں ہے وہ بے آرام ہو جائے

    محبت کیا اگر یوں صورت الزام ہو جائے

    نظر ناکام اور ذوق نظر بدنام ہو جائے

    قیامت ہے اگر یوں زندگی ناکام ہو جائے

    وہ پہلو میں نہ ہوں اور گرمیوں کی شام ہو جائے

    غم دل ہے مگر آخر غم دل کیا کہے کوئی

    فسانہ مختصر ہو کر جب ان کا نام ہو جائے

    محبت رہ چکی اور ماتم انجام باقی ہے

    وہ آنکھیں اشک بھر لائیں تو اپنا کام ہو جائے

    بڑی حسرت سے انساں بچپنے کو یاد کرتا ہے

    یہ پھل پک کر دوبارہ چاہتا ہے خام ہو جائے

    جیا لیکن مرا جینا کسی کے بھی نہ کام آیا

    میں مرتا ہوں کہ شاید زندگی پیغام ہو جائے

    نشورؔ احباب خوش دل کو ذرا ہنس بول لینے دو

    قیامت ہے اگر احساس شاعر عام ہو جائے

    RECITATIONS

    نعمان شوق

    نعمان شوق

    نعمان شوق

    بھلا کب دیکھ سکتا ہوں کہ غم ناکام ہو جائے نعمان شوق

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY