بین ہوا کے ہاتھوں میں ہے لہرے جادو والے ہیں

عمیق حنفی

بین ہوا کے ہاتھوں میں ہے لہرے جادو والے ہیں

عمیق حنفی

MORE BYعمیق حنفی

    بین ہوا کے ہاتھوں میں ہے لہرے جادو والے ہیں

    چندن سے چکنے شانوں پر مچل اٹھے دو کالے ہیں

    جنگل کی یا بازاروں کی دھول اڑی ہے سواگت کو

    ہم نے گھر کے باہر جب بھی اپنے پاؤں نکالے ہیں

    کیسا زمانہ آیا ہے یہ الٹی ریت ہے الٹی بات

    پھولوں کو کانٹے ڈستے ہیں جو ان کے رکھوالے ہیں

    گھر کے دکھڑے شہر کے غم اور دیس بدیس کی چنتائیں

    ان میں کچھ آوارہ کتے ہیں کچھ ہم نے پالے ہیں

    ایک اسی کو دیکھ نہ پائے ورنہ شہر کی سڑکوں پر

    اچھی اچھی پوشاکیں ہیں اچھی صورت والے ہیں

    رات میں دل کو کیا سوجھی ہے اس کے گاؤں کو چلنے کی

    جنگل میں چیتے رہتے ہیں راہ میں ندی نالے ہیں

    دونوں کا ملنا مشکل ہے دونوں ہیں مجبور بہت

    اس کے پاؤں میں مہندی لگی ہے میرے پاؤں میں چھالے ہیں

    RECITATIONS

    نعمان شوق

    نعمان شوق

    نعمان شوق

    بین ہوا کے ہاتھوں میں ہے لہرے جادو والے ہیں نعمان شوق

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY