بسمل کے تڑپنے کی اداؤں میں نشہ تھا

عادل منصوری

بسمل کے تڑپنے کی اداؤں میں نشہ تھا

عادل منصوری

MORE BYعادل منصوری

    بسمل کے تڑپنے کی اداؤں میں نشہ تھا

    میں ہاتھ میں تلوار لیے جھوم رہا تھا

    گھونگھٹ میں مرے خواب کی تعبیر چھپی تھی

    مہندی سے ہتھیلی میں مرا نام لکھا تھا

    لب تھے کہ کسی پیالی کے ہونٹوں پہ جھکے تھے

    اور ہاتھ کہیں گردن مینا میں پڑا تھا

    حمام کے آئینے میں شب ڈوب رہی تھی

    سگریٹ سے نئے دن کا دھواں پھیل رہا تھا

    دریا کے کنارے پہ مری لاش پڑی تھی

    اور پانی کی تہہ میں وہ مجھے ڈھونڈ رہا تھا

    معلوم نہیں پھر وہ کہاں چھپ گیا عادلؔ

    سایہ سا کوئی لمس کی سرحد پہ ملا تھا

    RECITATIONS

    نعمان شوق

    نعمان شوق

    نعمان شوق

    بسمل کے تڑپنے کی اداؤں میں نشہ تھا نعمان شوق

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY